الطاف حسین اور پابندی

image

جتنے انوکھے اور دہرے معیار ہمارے ملک میں میسر ہیں اسکی مثال کہیں اور نہیں ملاکرتی۔ہم سخی کو پاگل، عیار کو عقلمند،پیسے والے کو بڑا آدمی اور مصلح کو غدار جانتے ہیں۔اور پھر خود سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہم ترقی کیوں نہیں کرتے۔

جیسا کہ دیکھا جارہا ہے کہ آجکل پھر بہت سے حلقوں سے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جانے کا فیشن آن ہے اس سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے دو ہی شرائط نظر آتی ہیں اول پاک فوج کی بھرپور بوٹ چاٹ خوشامد دوئم قاعد ایم کیو ایم الطاف حسین کو گالی۔الطاف حسین کے بیانات کی تشہیر پہ پابندی بھی اسی فیل فیشن کی کڑی ہے۔

  
لیکن سوال یہ ہے کہ جس ملک میں آئین توڑنے والے ملک کے منتخب وزیراعظم کو کال کوٹھری دکھانے والے جرنیل پہ پابندی نہیں جس ملک میں نفرت انگیز بیانات کےباجود مولانا عبدالعزیز،احمد لدھیانوی اور امین شہیدی جیسے دہشت گردوں پہ پابندی  نہیں جس ملک کے میڈیا  کی زینت جرنیلوں کی پتلونیں گیلی کرانے والے سیاستدان ہوں۔ جہاں پرائم ٹائم میں کمانڈر صلاح الدین کا دہشت ناک بیان آن ائیر جاسکتا ہو وہاں آخر الطاف حسین نے ایسا کیا کردیا کہ انکے کسی بھی بیان کی اشاعت پہ مکمل پابندی ہے۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی تلاش کم از کم ہم کو تو ہے۔

ٹھیک ہے حب الوطنی کے ثبوت کے طور پہ ہم الطاف حسین کو برا بھلا کہنے کو غدار وطن،بھتہ خور بلکہ را کا ایجنٹ بھی کہنے کو لکھنے کو تیار ہیں لیکن اس کیلئے آپکو ہمیں قائل کرنا پڑےگا کہ یہ کیسا بھتہ خور ملک دشمن را کا ایجنٹ ہے جو ۲۵سال سے برطانیہ میں بیٹھ کر بھتہ بھی وصول کررہا ہے را سے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ بھی لے رہا ہے لیکن آج تک کہیں وزیر اعظم گیلانی کی طرح اس کی کسی مہنگے اسٹور میں شاپنگ کرتے کی کوئی خبر کیوں نہ آئی؟قمر زمان کائرہ یا نثار مورائی کی طرح برطانیہ میں کسی ہائی کمیونٹی مجرے میں نوٹ وارتے کی کوئی تصویر کیوں نہ آسکی؟ نواز شریف ، شہباز شریف اور زرداری کی طرح کوئی مہنگی پراپرٹی جو اس غدار نے خریدی کا کوئی دستاویزی ثبوت کیوں آج تک سامنے نہیں آیا؟ کیوں کوئی سرے محل یا جاتی امراءاس شخص کی میراث نہیں ؟ کیوں یہ آج تک اسی ۱۲۰گز کے مکان سے وابستہ ہے جبکہ کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ انڈیا سے ہے اور کروڑوں کا بھتہ کراچی سے ؟

ہم تو الطاف حسین کے خطاب و بیان پہ پابندی کے حق میں لکھنے کو ۱۰۰% تیار ہیں لیکن ہمیں دلیل چاہیئے کہ الطاف حسین کے کون سے بیان یا خطاب سے قتل و غارت گری پھیلی یہاں تو لوگوں نے بنکروں میں بیٹھ کر کھلم کھلا کہا کہ جو واپس جائے اسے شہید کردولیکن کوئی پابندی نہیں لگی تقاریر میں فساد کی ترغیبات دیتے حکیم اللہ کو شہید جبکہ فوج کے سپاہی کی شہادت کو حرام موت کہا گیا لیکن تقاریر پھر بھی نفرت انگیز اشتعال انگیز نہ قرار پائیں لیکن  الطاف حسین کی تقاریر پہ بیانات پہ پابندی لگی۔ 

یہ بھی خوب را کاایجنٹ ہے جو صرف یہ کہتا ہے کہ میرے کارکنوں اور قومیت کے لوگوں کو مت مارو اور بات یہاں سے شروع ہوکر نیٹو کی افواج کو دعوت اور بھارت کی مداخلت پر آجاتی ہے جو سراسر غلط ہے ، لیکن بات تو چار حلقوں سے شروع ہوئی اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر 126 دن آئین اور قوانین کی دھجیاں اڑانے پر بھی آگئی تھی۔ اوئے نواز شریف اوئے فلانے ، آگ لگادونگا جلا دونگا، اپنے ہاتھوں سے پھانسی دونگا یہ کرونگا وہ اکھاڑدونگا۔ سپریم کورٹ پر شلواریں اور جرنیلوں کی پتلونیں گیلی کرنے کی باتیں ہوئی، ان کا کیا؟کیا آئین پر حملہ ، پارلیمنٹ پر حملہ، ماڈل ٹاون میں 18 بے گناہ شہادتیں، ستر ہزار سے زاید بے گناہ لوگوں کی شہادت، بلوچستان میں 200 سے زائد ہزارہ شہدا کے مجرم الطاف حسین سے کم قصور وار ہیں؟
کیسے؟ ہمیں سمجھائیں نا؟ الطاف حسین کے بیان سے کتنی ہلاکتیں ہوئی، کتنا گھیراؤ جلاؤ ہوا ، ملک و قوم کو کتنا نقصان ہوا؟

ٹھیک ہے پابندی لگادیں لیکن یہ ضرور واضح کردیں کہ یہ کیسا را کا ایجنٹ ہے جو کہتا ہے میری جان بھی محب وطن جرنیلوں کیلئے حاضر ہے لیکن کرپٹ جرنیلوں اور انکے چمچوں کا احتساب گلے سے پکڑ کے کروں گا اور آج حال کے سابق کرپٹ جرنیلوں کی داستانیں بشمول ڈی ایچ اے اسکینڈل پرائم ٹائم کا حصہ ہیں۔ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ اس را کے ایجنٹ نے کبھی پاکستان مردہ آباد کے نعرے اپنے ساتھیوں سے لگوائے ہوں۔یا فوج کو گالی دی ہو۔بلکہ شاید اس غدارنے تو کبھی بھارتی جارحیت کے جواب میں آم یا ساڑھیاں بھی تحفتاً کبھی کسی کو نہیں بھجوائیں۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اس شخص کی کمزوری اسکے کارکنان ہیں تم اسکے کارکنان کو ماروگے تو وہ چیخے گا بھی، چلائے گا بھی اور گالی بھی دے گا کیونکہ یہ ولائتی بابا کی طرح ماڈل ٹاون میں اٹھارہ لاشیں چھوڑ کر چپ سادھ کر کینڈا نہیں جاسکتا یا آٹھ لاشوں کی موجودگی میں کنٹینر پہ دوپٹہ ڈانس کرسکتا ہے۔ یا چاچا سراج کی طرح بیس تاجروں کی لاشیں وصول کرنے کے باوجود مذاکرات مذاکرات نہیں کرسکتا۔

 
پابندی لگانی ہے تو الطاف حسین پہ ضرور لگائیں لیکن پہلے آزادی اظہار کی شق آئین سے خارج کریں اور ساتھ ہی داعش سہولتکاروں و ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں اور انکے سہولتکاروں پہ بھی تو کوئی پابندی لگائیں اور اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو صرف منہ کے فائر یا تھوک میں پکوڑے تلنے کی کوئی سعی نہ کریں کیونکہ اس قسم کی بوکھلاہٹ میں لگائی گئی پابندیاں الطاف حسین کی سوچ کو اسکی قوم کے دل و دماغ سے نہیں نکال سکتیں۔ وہ اپنے کارکن کا مان ہے اپنے کارکن کا واحد غرور ہے۔

بقول جالب کہ

‏ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری ، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم ، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

سانحہ چار سدہ

IMG_20160120_223041

آج پھر آرمی پبلک اسکول کا غم تازہ ہوا۔آج پھر بہت سوں کی گود اجڑی۔بہت سے خاندان لاوارث ہوئے آج پھر میرے پاکستان کے روشن کل کو ابدی نیند سلادیا گیا۔ آج پھرسے بہت سے مائیں دہلیز پہ اپنے بچوں کے انتظار میں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔آج پھر بےشمار خاندانوں میں صف ماتم بچھی۔بہت سی مذمتیں آئیں بہت سے بیانات آئے اور آرہے ہیں لیکن کوئی مذمت کوئی بیان مرنے والے کو واپس نہ لاسکا۔ ذخموں پہ نمک چھڑکنے کیلئے یہ بیان بھی آیا کہ سیکیورٹی ایجنسیز نے بروقت کاروائی کی اور بالآخر پچیس شہادتیں پچیس خاندانوں کو ہمیشہ کیلئے سوگوار کرگئیں۔

ہمیشہ کی طرح ہم نے ایسے بیانات پڑھے کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا یہ فلاں کی کاروائی ہے یہ فلاں کی کاروائی ہے۔ہر سانحے کے بعد کی طرح ہم نے پھر سنا کہ اس سانحے نے قوم کو ایک کردیا ہے۔دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔اس ملک میں ہمیشہ کی طرح کچھ ہی دیر میں یقیناً کوئی کالعدم تنظیم اسکی ذمہ داری بھی قبول کرلےگی۔کیونکہ یہاں ذمہ داری قبول کرنے کا فرض صرف کالعدم تنظیمیں ہی پوری کرتی نظر آتی ہیں ورنہ ہمارے حکمران و قانون نافذ کرنے والے ادارے تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کیا کرتے۔آج تک بڑے بڑے واقعات ہوگئے لیکن کوئی وزیرداخلہ،وزیراعظم،کسی ادارے کے کسی سربراھ نے یہ نہیں کہا کہ ان معصوم لوگوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری تھی ہم ناکام ہوئے ہیں ہم استعفی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو انکوائری کیلئے پیش کرتے ہیں۔

بات تو تلخ ہے پر جس ملک میں داعش کے نمائندے دندناتے پھریں وزیرداخلہ کو انکی گرفتاری کیلئے ایف آئی آر ڈھونڈے سے نہ ملے جہاں نیشنل ایکشن پلان کراچی کی حدود سے ایک انچ آگے نہ بڑھ پائے جہاں عوامی نمائندے ضمانتیں کراتے پھریں جہاں جہنمی کتوں سے مذاکرات کی باتیں ہوں جہاں  خوارجیوں کو دفتر دینے کی باتیں ہوں جہاں اسلامی نظریاتی کونسل اکھاڑا بنی ہو۔جہاں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے بنائے جانے والا ادارہ نیکٹا NACTA تک غیر فعال ہو وہاں صرف ایک سانحے سے دوسرے سانحے کے بیچ  کا وقفہ ہی امن کہلاسکتا۔

ہم نے آج تک اپنے اوپر گذرے سانحات سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ہم نے غفلت کے مرتکب افراد یا اداروں کو کبھی کوئی تنبیھ تک نہیں کی۔ہمارے بجٹ کا ۸۰% حکمرانوں اور ہمارے حفاظتی اداروں کو جاتا ہے لیکن عوامی حفاظت کے نام پہ صرف نوٹ بٹورے گئے۔آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا نیشنل ایکشن پلان کےتحت بلیک جیٹ دہشت گردوں کو پکڑا جائے گا نیشنل ایکشن پلان کے تحت پکڑا گیا تو قمر منصور کو پکڑا گیا ڈاکٹر عاصم کو پکڑا گیا لیکن نہیں پکڑا گیا تو ملا عبدالعزیز کو نہیں پکڑا گیا کالعدم تنظیموں کے سربراہان کو نہیں پکڑا گیا۔

ہمارے حاکم اعلان کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں لیکن معذرت کیساتھ ہم ادھوری جنگ لڑرہے ہیں ہم نے فوج کو تو میدان میں اتاردیا لیکن نظریاتی محاذ پہ ہمارے حکماء یہ جنگ لڑنے کیلئے تیار ہی نہیں۔کوئی بھی سیاست دان(علاوہ ایک جن پہ پابندی ہے) دہشتگردی کےخلاف سوچ کو پروان چھڑھاتا نظر نہیں آرہا۔کسی کا بھی موقف واضح نہیں کوئی بھی علی الاعلان میدان عمل میں نظر نہیں آرہا پھر کیونکر ہم جیت کی توقع رکھیں۔ہمارے وزیراعظم صاحب جلد ہی پاکستان کے دورے پہ بھی تشریف لائیں گے اور شاید چارسدہ باچاخان یونیورسٹی بھی چلے جائیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حاصل ہوگا اور کیا وصول۔

وقت آچکا ہے کہ اب حکمرانوں سے لاتعلق ہوکر من حیث القوم ہم فیصلہ کریں کہ ہم کو لڑنا ہے ہر طالبانی مائنڈ سیٹ سے انکے ہر ہر سہولتکار سے ہر ہر داعشور سے ہمیں لڑنا ہے۔یہ جس روپ میں ہوں انکا صفایا کرنا ہے اپنی نئی نسلوں کو انکے ہاتھوں ہوئی تباہی بتاکر ان سے نفرت کا درس دینا ہے۔ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ عدلیہ اور فوج سخت فیصلے کرتے ہوئے گذشتہ اور موجودہ حکمرانوں پہ داعش سمیت کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے چشم پوشی پہ مقدمہ بنائیں اور سخت ترین سزا تجویز کریں تاکہ ان بےبہرہ حاکمین کو یہ احساس ہو کہ ہم انکی ذمہ داری ہیں۔آئیں آج ہم سب مل کر بشیر بلور کا قول دہرائیں کہ
:” ہم مریں گے بھی .. ان کو ماریں گے بھی  لیکن … ان کو چھوڑیں گے نہیں ” 
انشاءاللہ

نیشنل ایکشن پلان اور کراچی

image

نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی آپریشن اپنی تمام تر کامیابیوں ناکامیوں اچھائیوں اور برائیوں کیساتھ اپنے بھرپور جوبن پر ہے۔عمومی مشاہدہ ہے کہ اس قسم کے آپریشنز جتنا طول پکڑتے ہیں انکے ثمرات اتنا ہی زائل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔خرابیوں کی نئی راہیں کھل جاتی ہیں۔معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے کئے جانا والا کوئی بھی آپریشن جتنا برق رفتاری سے ختم ہوگا اتنے ہی مثبت ثمرات معاشرہ پائےگا۔یہ جتنے طویل ہوتے جاتے ہیں اتنے ہی متنازعہ ہوتے جاتے ہیں۔ایسے آپریشن کتنے ہی ناگزیر کیوں نہ ہوں پر کامیابی کیلئے برق رفتاری شرط ہے۔

نیپ پہ متفق ہونے کےبعد کراچی آپریشن کو ہر سیاسی جماعت و ہر طبقہ فکر کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔اس آپریشن کے نتیجے میں ٹارگٹ کلنگ کا ۹۰فیصد خاتمہ ہوا ہے بھتہ پرچی میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے الیکشن انتہائی پرامن انداز میں منعقد ہوئے لیکن ابھی تک اسٹریٹ کرائمز و ڈکیتی کم نہ ہوئی بلکہ محدود اعداد و شمار کیمطابق اسٹریٹ کرائمز و ڈکیتیوں کی شرح میں بہت حد تک اضافہ ہی ہوا ہے۔جہاں آپریشن کے نتیجے میں کامیابیوں پہ خوش ہونے کی ضرورت ہے وہیں اسکے تمام منفی پہلوؤں سے نظریں چرانا اور انکا تدارک نہ کرنا کراچی اور پیراملٹری فورس کے ساتھ حقیقی زیادتی ہوگی۔

یہ وضاحت کردیں کہ کراچی آپریشن ناگزیر تھا۔آنے والا وقت ثابت کردےگا کہ اس آپریشن کی کامیابی کراچی کی کامیابی ہے۔لیکن اس آپریشن کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے والے عوامل پہ بھی نظر رکھنا ہوگی اور اس آپریشن کے منفی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا کراچی اور پیراملٹری فورس  کیساتھ ظلم ہوگا کیونکہ آپریشن میں کراچی والوں اور پیراملٹری فورس نے ہی قربانی دی ہے باقی سب نے تو صرف سیاست ہی کی ہے۔

اب جبکہ ۲۰۱۶ کی ابتداءہے تو یہ طویل ہوتا نظر آرہا ہے۔کیونکہ حال فی الحال تو اسکا دائرہ کراچی سے باہر جاتا نظر ہی نہیں آتا۔جبکہ سانگھڑھ و خیر پور و شکارپور ہجیسے واقعات اور بم دھماکے کراچی میں ہوئے ہوتے تو نہ جانے کیا سے کیا ہوچکا ہوتا۔ کچھ ایسا تاثر ابھررہا ہے کہ کراچی میں رہنے والا ملزم تو مجرم ہے دہشت گرد ہے دہشت گردوں کا سہولتکار ہے لیکن اندرون سندھ دہشت گرد ڈاکیت چور راہزن اغواء برائے تاوان اور دہشت گردوں کا سہولت کار ہونا جرم نہیں۔  

عامر خان،قمر منصور کو تو ملک سے باہر جانے کیلئے اجازتیں درکار ہیں جبکہ مظفر ٹپی منظور کاکا و شرجیل انعام میمن کو ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود جہاز تک میں بٹھاکے وی آئی پی پروٹوکول میں روانہ کرایا گیا اور باقیوں کو روانہ کرایا جارہا ہے۔ڈاکٹر عاصم ہوں عامرخان ہوں قمر منصور ہوں یا کیف الوریٰ ہوں انکا تعلق چونکہ کراچی سے ہے اسلیئے انکو اٹھاتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ آیا ان پہ کوئی ایف آئی آر ہے بھی یا نہیں ان پہ جتنی ایف آئی آرز کٹیں وہ دوران حراست کٹیں۔جبکہ داعش کے سہولتکار ملاعبدالعزیز یا دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین و سہولتکاروں کی گرفتاری کیلئے ایف آئی آر اور وجوہات ڈھونڈی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر عاصم ہوں ،عامرخان ہوں قمر منصور ہوں یا سوئی سدرن گیس کمپنی کے ڈی ایم ڈی شعیب وارثی ہوں ان سب کے ۹۰روزہ ریمانڈ کے بعد عدالتوں میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ یہ لوگ دہشت گردوں کے سہولتکار رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم پہ انتہائی عجیب سی سہولتکاری ڈالی گئی ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے زخمیوں کا علاج کیاہے ۔کیا عجیب سی صورتحال ہے اگر علاج یا زخمیوں کے علاج کی بنیاد پہ سہولتکار ہونا ہی جرم ہے تو جی ایچ کیو حملہ کیس کے مرکزی ملزم ڈاکٹر عثمان کا علاج کیوں سی ایم ایچ میں کیا گیا تحریک طالبان کے کسی رہنما کا علاج شوکت خانم میں کیوں ہوا اسی طرح بہت سے سوالات ہیں کیونکہ ڈاکٹر کا کام علاج ہے نہ شناختی کارڈ دیکھنا اس لیئے اس بنیاد پہ ڈاکٹر عاصم کا ریمانڈ در ریمانڈ لیا جانا سو فیصد غلط ہے۔

بہت سی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں کچھ ایسا تاثر جنم لے رہا ہے کہ اب نشانہ صرف کراچی والے ہی ہیں۔اس تاثر کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ نذیر حسین ہسپتال کیلئے زکوۃ فطرہ لینا جرم جبکہ شوکت خانم کیلئے زکوۃ فطرہ اکٹھا کرنا عین جائز اور ثواب ہے

اگر یہ زخموں سے چور پر زندہ دل دلیر قوم نیشنل ایکشن پلان پہ حکمرانوں کی غیر مشروط حمایت کرتی ہے تو اسکا یہ حق ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سو فیصد غیر متنازعہ رہے۔کہیں سے بھی اگر زبان رنگ و نسل یا پسند نا پسند کی بنیاد پہ ایکشن ہوا تو یہ نیپ کی ناکامی ہوگی۔ جو ہوگیا سو ہوگیا اور جو کہیں کچھ غلط ہوگیا تو آئیندہ بہتر کرنے کی کوشش کیساتھ پچھلے غلط کے ازالے کی نیت کرکے آگے بڑھا جائے۔اور ملک و بالخصوص کراچی میں جاری آپریشن کے سلسلے میں مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے۔تاکہ اگر کسی طرف سے کوئی شکایت آئے تو اسکا ازالہ کیا جاسکے

ڈاکٹر عامر لیاقت اور انکا عمران

۱۱دسمبر کا جنگ اخبار جو اٹھایا تو عامر لیاقت حسین کے کالم پہ نظر پڑی جو واقعی بہت اعلی پائے کی تحریر ہے جس میں آپ نے ابن صفی کے کرداروں کو ۲۰۱۵ میں فٹ کرنے کی کوشش کی۔ابن صفی و مظہر کلیم کے بعد اب ڈاکٹر صاحب نے عمران سیریز لکھنا شروع کی ہے

لیکن ڈاکٹر صاحب کی عمران سیریز سے ہمیں شدید اختلاف ہے۔ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر کے بعد یقیناً ابن صفی کی روح بھی اتنی ہی تڑپی ہوگی جتنے کہ ہم تڑپے۔ ابن صفی کا عمران بے شک حماقتوں ، چرب زبانی و ذہانت کا حسین امتزاج تھا وہ ایک ہیرو کا کردار تھاوہ دہری شخصیت کا حامل ضرور تھا پر اعلی کردار تھا وہ کردار کا بھی غازی تھا تو گفتار کا بھی غازی۔اسکے ہوتے جولیا اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھی تمام خلوتی جلوتی کنٹینروں کے ہوتے بھی جولیا و تھریسیا سمیت تمام عورتیں عمران کے کردار کی ضامن تھیں۔ابن صفی یا مظہر کلیم کی کسی تحریر میں ہیرو عمران نے ناچ مجرے کی ناکامی کے نتیجے میں پاک لینڈ کے افسروں کی پتلونیں گیلی نہیں کروائیں ٹینڈیا کی تقسیم کو بھی غلط نہیں کہا۔وہ سر رحمان کا بیٹا تھا پرنس تہمور علی خان تھا لیکن باپ کے نام کو استعمال کیئے بغیر ایکس ٹو بنا تھا۔یعنی ایمپائر اسکے گھر کے تھے لیکن اسنے کبھی ایمپائر کی انگلی پہ بھروسا نہیں کیا۔وہ غیر ملکی مہم کے دوران دسیوں بار مختلف شراب و شباب کی محافل میں گیا پر کڑک نوٹ کا استعمال تو کجا اس نے تو کبھی گلاس تک کو ہاتھ نہ لگایا۔

ڈاکٹر کیا یہ تمام خواص آپکے عمران میں ہیں یقیناً نہیں آپکا عمران تو ایمپائر کی انگلی کے اشارے پہ پراچی پرچی پہ گیا اور جب پراچی میں دال نہ گلی تو ائمپائر کو زچ کرنے ٹینڈیا پہنچ گیا۔جس جیکال کی عمران سے جان جاتی تھی اسی جیکال سے آپکا عمران منت سماجتیں کرکے ملنے گیا۔آپکا عمران تو جیکال کی مسکراہٹ تک نہ سمجھ سکا۔آپکا عمران کڑک نوٹ سونگھنے والا عمران ہے ابن صفی کا عمران اعلی کردار کا حامل ہوا کرتا تھا۔وہ نہ عیاش تھا نہ بدتمیز نہ غدار۔وہ زبان تو بہت لمبی رکھتا تھا پر اس نے کبھی بھی واہیات زبان استعمال نہ کی۔اسکی زبان سے ہمیشہ ماوں بہنوں کو تقدیس نصیب ہوئی نہ کہ واہیات گالیاں۔اور ڈاکٹر صاحب سب سے بڑا فرق یہ کہ ابن صفی کا عمران پاجامہ زیب تن کرنے والا عمران تھا جبکہ آپکے عمران کو تو پاجامے والوں سے ہی نفرت ہے۔
اسلیئے آپکا عمران فیل ہوا اور ذلت آپکے عمران کا مقدر بنی آپ اپنے عمران  کو خدارا اس عمران سے تو دور ہی رکھیں۔اور ابن صفی کی روح سے معذرت بھی کریں۔

ڈاکٹر صاحب خدا آپکو آباد رکھے اور آپکے والدین کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس کے مقامات عطا ہوں لیکن آپکے عمران نے جو جیکال سے ملاقات کی ہے اگر ایسی ہی کوئی ملاقات پراچی کی جماعت کے قاعد کرلیتے تو عمران کے ائمپائر کے سارے جائز ناجائز بچے کیسے چیخم  چلا مچائے ہوتے۔رات ۹ سے ۱۱ ایجنٹ ایجنٹ کا پروگرام چل رہا ہوتا لیکن آپکے عمران پہ سب چپ ہیں کیونکہ کہیں نہ کہیں ائمپائر کا دونمبری آسراء آج پھر آپکا عمران ہی ہے۔

ایم کیو ایم اور اسکا ووٹر

بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔یہ مرحلہ ویسے تو ہر سیاسی جماعت کیلئے اہمیت رکھتا تھا لیکن کراچی میں جاری آپریشن کی وجہ سے یہ مرحلہ متحدہ قومی موومنٹ کیلئے نہایت اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ایم کیو ایم کو اپنی عوامی مقبولیت برقرار رکھنا تھی کیونکہ ایم کیو ایم مخالف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ ایم کیو ایم کا باب بند ہوچکا ہے۔لیکن حیدرآباد،میرپورخاص،نوشہرو فیروز،مٹیاری اور جامشورو میں ایم کیو ایم کی واضح فتح نے سندھ کے شہروں میں الزامات اور میڈیا ٹرائل کی سیاست کو کافی حد تک تابوت میں بند کردیا ہے اور امید ہے کہ آخری کیل ۵دسمبر کو کراچی میں ٹھوکی جائے گی۔

image

حیدرآباد،میرپورخاص سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ،میڈیا،اور دس جماعتی اتحاد سے تھا حتہ کہ تحریک انصاف اور ن لیگ میرپور خاص اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم مخالفت میں اتحاد تک بنا بیٹھے۔لیکن سندھ کے شہروں نے ایم کیو ایم کو حسب سابق واضح اکثریت دی۔میرپورخاص اور حیدرآباد تو ایم کیو ایم کے گڑھ سمجھے جاتے تھے لیکن مٹیاری،نوشہروفیروز و جامشورو سے بھی ایم کیو ایم نے سیٹ نکالی۔

ایسے وقت میں قاعد متحدہ قومی موومنٹ پہ پابندی عائد ہے ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان اٹھائے جاچکے ہیں یونٹ سیکٹر بند ہوں قانون نافذ کرنے والوں کیلئے ایم کیو ایم کا کارکن و ہمدرد ہونا اس وقت سب سے بڑا جرم ہو۔جب کہ سندھ رینجرز الطاف حسین اور انکی جماعت کے خلاف پارٹی بنی ہوئی ہو ایسے میں ایسی فتح عوام سے الطاف حسین کی اور الطاف حسین سے عوام کی محبت کی انتہا ہی تو ہے۔

لیکن محبت کی یہ انتہا کہ ہزاروں الطاف حسین پہ مرمٹے ہزاروں مرمٹنے پہ تیار ہیں۔ترجمان انکل را کا ایجنٹ بولیں یا کوئی زندہ لاشیں بولے یا کوئی کہے کہ ایم کیو ایم کے زمانے گئے لیکن ہر دفعہ ایم کیو ایم اپنے ہی عوامی پذیرائی کے ریکارڈ کو توڑتی نظر آتی ہے۔

اس تمام کامیابی کے پیچھے یقینا کچھ تو بات ہوگی جو ہر دفعہ نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ صرف ایم کیو ایم کو ووٹ دیتا نظر آتا ہے۔اور کیوں نہ دے کہ جہاں ہر سیاسی جماعت میں جعلی ڈگری والوں کی بھرمار ہو وہاں ملک کی تیسری جماعت متحدہ قومی موومنٹ میں کوئی ایک بھی جعلی ڈگری والا نہ نکلا ہو۔ جب ممکت خداداد پاکستان میں عوام ممبران قومی و صوبائی اسبلیز کے دیدار کو ترستے ہوں وہاں متحدہ قومی موومنٹ کا ایم این اے ایم پی اے عام آدمی کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اور ایم کیو ایم کو ووٹ کیوں نہ پڑتا ایم کیو ایم کا کوئی رہنما کوئی ایک ایم این اے ایم پی اے کرپشن کے کسی الزام کی زد میں کبھی نہ آیا۔حتہ کہ الیکٹرک شاکس دے کر ناکردہ گناھ بھی قبول والیئے گئے لیکن کوئی ایک کیس بھی کرپشن کا نہ بن پایا۔

ہمارے ملک میں اپنے آدمی کی کرپشن پہ اپنے آدمی کے گناہوں پہ پردہ ڈالا جاتا ہے اور خود احتسابی و عمل تطہیر کا عنصر ہی نہیں ہے۔ایسے میں اپنے ہی کارکن کا احتساب کرنا اور وقتاًفوقتاً پوری جماعت کو تطہیر کے عمل سے گذارنے والی واحد جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے۔تو ووٹ تو پڑنا ہی تھا

۱۱مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر پہ چھاپہ ہو یا صولت مرزا کی ڈیتھ سیل سے وڈیوہو یا ۸۰۔۸۰افراد کے قتل کے اقبالی بیانات جیسے میڈیا ٹرائل کو فیس کرنے کا جگرا نہ کسی اور سیاسی جماعت کی قیادت میں ہے نہ کسی اور کے کارکن میں۔میڈیا نے ایم کیو ایم پہ جتنے الزامات لگائے ہیں آج تک کوئی ایک ثابت نہ ہو پایا

اسکا مقصد یہ نہیں کہ ایم کیو ایم دودھ سے دھلے ہوئے افراد کا مجموعہ ہے نہیں بلکہ بے شمار اور ان گنت خامیاں کمیاں کوتاہیاں ہوں گی بلکہ ہیں جنہیں کہ صحیح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ خامیاں کوتاہیاں یقیناً ان خوبیوں سے کم ہیں جو ایم کیو ایم کو حاصل ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کا ووٹر اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے پہ تیار نہیں۔ ان نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے نتیجے میں ایم کیو ایم آج ملک کی تیسری اور پاکستان میں بائیں بازو کی واحد بڑی سیکیولر جماعت بن کے سامنے آئی ہے۔

آپریشن کلین اپ

بچوں کے اسکول میں اقبال ڈے کے حوالے سے پروگرام آرگنائز کیا جارہا تھا۔صاحبزادے تقریر کی تیاری کرتے ہوئے جملے دہرارہے تھےکہ بڑے زوردار انداز میں گویا ہوئے کہ اقبال نے سوتی ہوئی قوم کو جگایا۔اور اسکے اس انداز پہ ہم یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے کہ آخر وہ کونسی قوم تھی جسے اقبال نے جگایا تھا کیونکہ اس قوم کو تو زلزلے سیلاب نہیں جگاپارہے۔بڑے بڑے سانحات نہیں جگاپارہے یہ قوم تو بہت گہری نیند میں ہے۔یا شاید اقبال کی شاعری نےصرف اتنی دیر کیلئے جگایا ہوگا کہ ارض پاک کے حصول کے بعد پھر ایک طویل خواب غفلت نصیب ہوا ہے جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لےرہا۔

بلدیاتی انتخابات کا پہلا فیز برائے سندھ اور پنجاب مکمل ہوچکا ہے۔پی پی پی و ن لیگ اپنے اپنے صوبوں میں ابھی تک واضح اکثریت لے چکی ہیں۔لیکن دونوں کی کامیابی بہت خونریز کامیابیاں ثابت ہوئی ہیں۔خیرپور و دیگر اضلاع میں ۱۵افراد ان انتخابات کی نظر ہوئے جبکہ فیصل آباد میں ن لیگ ہی کے دو گروپوں میں جنگ چلتی رہی جس کی ایف آئی آر ایک صوبائی وزیر کے حامیوں نے وفاقی وزیر پہ کٹوادی یعنی ن لیگ بمقابلہ ن لیگ چلتا رہا ن لیگ کے کارکنان ن لیگ پہ گولیاں چلاتے رہے تو اندرون سندھ پی پی پی و فنکشنل لیگ کے مابین فساد برپارہا نتیجتاً ۱۳افراد جان سے گئے۔

قیمتی سیاسی کارکنان کی لاشیں دونوں صوبوں میں بکھری پڑی رہیں جشن منانے والے جشن مناتے رہے ماتم کرنے والے ماتم کرگئے لیکن پورے ملک میں سے کسی نے فیصل آباد یا خیرپور میں فوجی آپریشن کا مطالبہ نہیں کیا۔ معذرت کیساتھ کہیں کے ڈی جی رینجرز کے پاس کہیں سے آپریشن  کلین اپ کا آرڈر نہیں آیا۔ پی پی پی یا ن لیگ کے کسی دفتر پہ ریڈ نہیں ہوئی کہیں سے کوئی بٹ کوئی جٹ کوئی خواجہ کوئی چانڈیو کوئی مگسی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے جوڑا گیا نہ ہی کسی کو ۹۰ روزہ ریمانڈ پہ لےجایا گیا۔بلکہ ہلکی پھلکی خبریں بنیں اور باہمی رضامندی سے سب معاملات طے پاگئے۔

بالفرض محال ہمارے منہ میں خاک کوئی لیکن ذرا سوچیں ایسا واقعہ اگر کراچی میں ہوجاتا لالوکھیت یا لانڈھی میں دوران انتخاب فساد ہوجاتا تو کیا اہل زمین کا یہی رویہ ہوتا کیا عمران خان،محمود خان اچکزئی و عبدالقادر بلوچ ایسے ہی چپ رہتے یا کلین کراچی آپریشن کراچی کے نعرے لگا رہے ہوتے بلکہ شاید کراچی کی سیاسی جماعت پہ تو پابندی لگانے کی فرمائشیں چل رہی ہوتیں یہ جانے بغیر کہ ہوا کیا تھا ماجرا کیا تھا۔یہ کونسے دہرے معیار ہیں کہ کسی نے بھی نہیں قبولا کہ قتل کے احکامات کہاں سے آتے تھے۔

دوسرا فیز بھی چند دن میں ہونے جارہا ہے خدا کرے بقایا انتخابات پرامن رہیں لیکن آپریشن کی جتنی ضرورت کراچی میں ہے اس سے زیادہ اسوقت اندرون سندھ و پنجاب میں ہے۔ جتنا اسلحہ موجودہ آپریشن میں آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے برآمد  کیا ہے اس سے کہیں زیادہ تو جیالوں اور لیگی کارکنان کی جیت کے جشن میں نظر آیا۔خدا جانے وہ کونسی ن لیگ تھی جس کیلئے کراچی بدامنی کیس میں سابق چیف جسٹس لکھ کرگئے کہ صرف ن لیگ میں ملیٹنٹ ونگ نہیں۔کیونکہ فیصل آباد میں تو دو دو ملیٹنٹ ونگ سامنے آچکے ہیں جبکہ لاہور کا حال بھی اسلحے سے بھرپور ہے۔

جن باتوں کو بنیاد بناکر ۹۲اور پھر ۲۰۱۴ میں کراچی آپریشن کئے گئے وہ تمام وجوہات اسوقت اپنی تمام انتہاوں کیساتھ اندرون سندھ و پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔اغواء برائے تاوان کراچی سے کہیں زیادہ لاہور اور فیصل آباد میں ہے سیاسی قتل اندرون سندھ و پنجاب میں فی الوقت زیادہ ہیں ڈکیتی کی وارداتیں اندرون سندھ پچھلے پانچ سالوں میں سو گنا بڑھ چکی ہیں۔لیکن کسی نے آپریشن ٹائپ چیز کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

سانحہ فیصل آباد ہو یا سانحہ خیرپور یہ سب ناجائز اسلحہ کی فراوانی کے نتائج ہیں۔اسلحے سے پاک پاکستان وقت کی ضرورت ہے نہ کہ صرف اسلحے سے پاک کراچی۔وقت نے عیاں کردیا ہے کہ آج جائز ناجائز اسلحہ و ملیٹنٹ ونگز ن لیگ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں بہت زیادہ منظم ہیں۔بمقابلہ ایک سیاسی جماعت کے۔اسی لیئے اب مطالبہ بنتا ہے کراچی آپریشن کا دائرہ اب حقیقی کرمنلز کی طرف بھی موڑا جائے۔

سیاسی شریف ایکسپریس

رمضان المبارک میں بھی پاکستانی سیاست میں ٹہراو نظر نہیں آرہا۔نوازشریف اور راحیل شریف کے دور میں جہاں جیو رمضان شریف نشر کررہا ہے اس بات کی امید جڑ پکڑتی جارہی ہے کہ کچھ عرصے میں شریف بھی ایک ذات ہوا کرے گی۔جیسے بھٹو،لغاری،ملک،چوہدری اور شاید اب شریف۔جو سندھ کی تاریخ سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سندھ میں تو ذاتوں کے نام تبدیل ہو ہی جایاکرتے ہیں۔اور خودبخود چند پشتوں بعد نئی ذاتیں جنم لیاکرتی ہیں۔جیسے بھٹی سے بھٹو،خرداری سے زرداری،کلہوڑو سے عباسی،اب شاید ایک نئی ذات کا ظہور اس پاکستان میں وقوع پذیر ہونے جارہا ہے۔لیکن دلچسپ صورتحال جب پیدا ہوگی جب مورخ شجرہ لکھے گا اس شجرہ کی شاخیں کون کون سے ممالک میں جائیں گی یہ دلچسپ بات ہوگی۔فی الحال ہر آدمی کو حسب خواہش شریف ہونا مبارک ہو۔

اس ہفتے شدید گرمی اور اوپر سے سیاسی گرماگرمی دونوں کے اثرات ٹرپنگ ہی کی صورت میں سامنے آئے۔کے الیکٹرک کے پی ایم ٹی اور چند اہم وزراء کے فیڈر ٹرپ ہوتے دیکھے گئے۔لیکن قابل افسوس بات یہ رہی ۶۸سال گذرنے کے باوجود اردو بولنے والے کو حب الوطنی کےسرٹیفیکیٹ  کی آج بھی ضرورت ہے۔ارض پاک کیلئے مسلم اقلیتی صوبوں کی بیس لاکھ جانوں کی قربانی دینے والوں کی تیسری نسل تک کو انڈین ایجنٹ ہونے کا طعنہ دیاجانا پاکستان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے شرمناک ہے۔لیکن یہ طعنہ ایک اہم سوال جنم دے گیا ہے کہ پھر پاکستانی کون ہے¿کیونکہ بلوچوں کو انڈین فنڈنگ ہےایرانی فنڈنگ ہے وہ غدار ہیں اردو بولنے والے انڈین جبکہ پشتو افغانی ایجنٹ ہیں تو پاکستانی کون ہوا۔

بی بی سی پہ لندن پولیس کے ترجمان کا بیان ہو،نائن زیرو ریڈ کے نتیجے میں پکڑے گئے افراد کی عدلیہ سے رہائی ہو یا سو ۱۰۰دن ریمانڈ کے باوجود عامرخان کی رہائی ہو ان تمام باتوں سے یہ بات سچ ہی ثابت ہوئی کہ ایم کیو ایم سچ کہ رہی تھی کہ اسکے خلاف صرف میڈیا ٹرائل ہے۔کیونکہ حقیقی ٹرائل میں تو کچھ بھی ثابت نہ ہوسکا۔یہ سب کچھ ایم کیو ایم اور اسکی قیادت کیلئے کچھ نئی بات نہیں جب جب انکی ضرورت ہوتی ہے ان سے امور سلطنت چلوالئے جاتے ہیں اظہار یکجہتی کے جلسے منعقد کروائے جاتے ہیں اور جب ضرورت نہیں ہوتی غدار وطن اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیاجاتا ہے۔سندھ کے شہری علاقوں کے اردو بولنے والے اب ان باتوں کےاتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ان پہ لگے اس طرح کے الزامات ان کے نزدیک لطیفے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ لطیفہ ہی تو ہے کہ ایک صوبائی وزراء کے گھر چھاپے پڑیں تو دو دو ارب ملیں ایک ایس بی سی اے کے ڈی جی پہ اربوں کے الزام ہوں لوگوں کی ڈالروں سے بھری لانچیں پکڑی جارہی ہوں وہاں ایم کیو ایم انڈین فنڈنگ بھی لے رہی تھی تو صرف ۸/۱۰کروڑ روپے سالانہ اس سے کہیں زیادہ تو خدمت خلق فاونڈیشن (کے کے ایف)زکوۃ جمع کرتی ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ کا تو سامان ہرسال جناح گراونڈ کے کے ایف کے پروگرامز میں بٹ جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے طارق میر صاحب اگر انڈین فنڈنگ کے بجائے اگر کے کے ایف سے ہی لون لیتے تو کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔دوسرا قابل غور لطیفہ یہ کہ انڈین ایجنسی ۹۲سے بذریعہ چیکس فنڈنگ کررہی تھی جبکہ ۲۰۰۶میں پہلی بار کوئی ملاقات یا تعارف ہوا تو انڈین ایجنسی چودہ سال کسے فنڈنگ کرتی رہی۔اور یہ دنیا کی واحد یوتھیا ایجنسی ہے جو بذریعہ چیکس فنڈنگ کرتی ہے اور جسے انڈینز فنڈنگ کرتے رہے اس کا گورنر چودہ سال سے ہر حکومت اور فوجی سربراھ کی مرضی سے اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کے طور پہ اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ لندن پولیس کے نمائندے ایلن کروکرفورڈ کے بیان کے بعد کیا وہ صحافی معافی مانگیں گے جو فوٹوشاپڈ بیان پہ ڈھائی ڈھائی گھنٹے کے پروگرامز کرتے رہے۔اوون بینٹ جونز کی اسٹوری کو جن لوگوں نے آسمانی صحیفہ مانا کیا وہ سب لوگ الطاف حسین و ایم کیو ایم سے معافی مانگیں گے یا ہمیشہ کی طرح الزامات لگانے والوں کو مقدس گائے تصور کیاجائے گا۔چند بوٹ پالشئے صحافیوں کا رویہ تو انتہائی قابل مذمت رہا ان کو ہر حال میں معافی مانگنی چاہیئے۔ جب امریکی صدر معافی مانگ سکتا ہے جھوٹ لکھے جانے کی معافی پروین سوامی مانگ سکتی ہیں الطاف حسین معافی مانگ سکتے ہیں تو ان تنخواھدار صحافیوں کو استثناء کیوں۔

image

اپنی اس لکھت کا آغاز بھی شریف تھا تو اختتام بھی شریف ہی ہونا چاہیئے تو آخری ذکر وزیراعظم نوازشریف کا ہی ہوجائے کہ حضور کراچی آئے تو لیکن آفت زدہ شہر کے بنیادی مسائل بجلی کی فراہمی امن و امان  و پانی کی منصفانہ تقسیم پہ توجہ دینے کی بجائے وزیراعلی صاحب سے ملے اور چلے گئے۔دوران اجلاس بھی ساری توجہ گرین بس سروس پہ ہی رہی۔نہ کسی سرکاری ہسپتال جاکر کسی مریض کی عیادت کی نہ ہی کسی ریلیف پیکج کی متوقع اناونسمنٹ ہوئی۔ہماری وزہراعظم سے درخواست ہے کہ بےشک کراچی کراچی شریف نہ ہوسکا لیکن پاکستان شریف کا ہی ایک شہر ہے۔شریف سرکار کا ایسا رویہ سندھ کے سیاست دانوں کے اس الزام کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ صرف پنجاب کے وزیر اعظم ہی لگتے ہیں۔