ضمیر لوٹ میلہ

آجکل ڈیفنس کراچی میں ضمیر جگاؤ مہم زورو شور سے جاری ہے۔ ۵ کے قریب افراد کے ضمیر جاگ چکے ہیں اور دو چار کے شاید اور جاگ جائیں۔لیکن یہ جاگنے والے سارے ضمیر پرانی سبزی منڈی کے ہیرونچیوں سے قطعی کم نہیں کہ جب بھی جاگتے ہیں بوٹوں کی آہٹ سے ہی جاگتےہیں۔ فی زمانہ ضمیر جاگنے کی سب سے بڑی کرامت  تمام الزامات سے بری ہونا ہے۔ جس جس کا ضمیر جاگتا جارہا وہ خود بخود گنگا نہاکر ڈیفنس فیز سکس خیابان سحر پہ جمع کیا جارہا ہے۔ یہ جاگےضمیر کی ہی تو کرامت ہے کہ میڈیا اور لوگ شبقدر واقعہ۔۔ CPEC نیب کو لگام لگانا۔۔۔ سیکورٹی کے حالات۔۔۔ذوالفقار مرزا…ممتاز قادری  سب بھول گئے۔بس یاد رہا تو صرف ضمیر۔

اس سے پہلے بھی اس ملک میں جاگے ضمیر نامی ڈرامے اور کہانیاں چلتی رہی ہیں ۔ہدایتکار کی ہدایت پہ کرداروں کے ضمیر وقتاًفوقتاً جاگتے رہے لیکن ڈرامے کے اختتام کے ساتھ ساتھ جاگے ضمیر کا کردار ہمیشہ  ہی ختم ہوتارہا ہے کیونکہ جاگے ضمیر کو بھی ڈرامے کے اختتام پہ ہی سمجھ آتا ہے کہ کردار چاہے کتنا ہی باضمیر کا ہو کہانی کیساتھ ختم ہوجاتا ہے۔کہانی ختم کردار ختم۔ گر یاد کریں تو یاد آئیگا کہ ایک تھی ق لیگ،ایک تھا میاں اظہر،ایک تھا صولت مرزا،ایک تھا یحیی بختیار اور مستقبل قریب میں  ایک ہوگا مصطفی کمال۔

اس دفعہ جاگے ضمیر گنگا نہائے آٹھ دس افراد کی قیادت آئی سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کے حصے میں اور ہدایت کار کی ہدایت کے عین مطابق آپ نے کردار ادا کرنا شروع کیا۔آج تک کی تمام پریس کانفرنسز میں کمال نے جتنی باتیں کیں وہ ایک سے بڑھ ایک پرانی باتیں تھیں کچھ بھی نیا نہیں تھا یہ ساری باتیں چند افراد کا ٹولہ ۹۲ میں بھی کرچکا ہے۔اسی طرح کے الزامات یہی سب کچھ حتی کہ انکے اسکرپٹ میں بھی جھنڈا پاکستان ہی کا ہواکرتا تھا لیکن نتیجہ کیا ہوا کچھ بھی نہیں انکی کسی بات پر عوام و کارکنان نے کان دھرے قطعی نہیں بلکہ کوئی ۱۵سال تو کوئی ۱۸سال بعد معافی مانگ مانگ کر واپس آیا۔ لیکن ۹۲ کے کرداروں کی خوش نصیبی یہ تھی پندرہ سترہ سال بعد انہیں معاف کرنے کیلئے الطاف حسین نہ صرف موجود بلکہ صحت مند تھے۔کیونکہ یہ بات مصطفی کمال بھی بخوبی جانتے تھے جس دن الطاف حسین نہیں ہوں گے اس دن پھر کون مصطفی کمال یا کون زید اور کون بکر یہ قوم بےضمیروں کو جوتیوں میں دال بانٹے گی۔ یہ کسی اور کے قابوکے نہیں۔

اور جہاں تک بات اختلاف کی ہے تو ایم کیو ایم میں رہ کر بھی لوگوں نے اختلاف کیا اور ایم کیو ایم سے کنارہ کشی اختیار کرکے بھی لوگوں نے اختلاف کیا۔ سیاسی جماعتوں میں نظریے کی بناد پہ مختلف لابیز ہوا کرتی ہیں جن میں صحت مند اختلاف ان سیاسی جماعتوں کی کامیابی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔  حالیہ مثالوں میں ایک مثال عامر لیاقت کی بھی تو ہے ایم کیو ایم کے رکن کی حیثیت سے اسٹیٹ منسٹر اور پھر وزارت سے استعفی اور ایم کیو ایم سے بھی استعفی لیکن کیا عامرلیاقت نے اپنے محسن اپنی قوم کے لیڈر کی کردار کشی کی قطعی نہیں کی۔ عامر لیاقت دنیا کے ۵۰۰بااثر افراد میں سے ایک ہیں انکے تعلقات اسٹیبلشمنٹ اور پریس سے کمال سے کہیں کمال کے ہیں لیکن بات صرف اتنی ہے کہ عامر لیاقت کم ظرف نہیں تھا اسکی رگوں میں شیخ لیاقت کا خون تھا لیکن کمال کا ابھی تک کمال صرف یہ ہے کہ علاوہ اپنے محسن کی کردار کشی اور کوئی بات ان کے منہ سے نکل ہی نہیں رہی یا تو موصوف اپنی تعریف میں رطب السان ہیں یا ان کی کردار کشی میں بولے جارہے جن کے آگے ہاتھ باندھے ہاتھ نہ تھکتے تھے۔اور یہ شر تو کمال کے کمال سے متوقع تھا ہی کیونکہ مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماگئے کہ جس کیساتھ نیکی کرو اسکے شر سے بچو۔  

چلتے چلتے کمال اور کمال کے ضمیر کو یاددلاتے چلیں ۹۲ ہو یا ۲۰۱۶ زمانہ شاہد تھا اور زمانہ شاہد ہے کہ اگر پوری کی پوری ایم کیو ایم بشمول سپریم کونسل و رابطہ کمیٹی بھی کسی اور کیمپ میں چلے جائیں تو جائیں ایم کیو ایم کے کارکن اور ایم کیو ایم کا ووٹر صرف الطاف حسین سے جڑا ہے اور جڑا رہے گا اسکی تربیت کا خاصہ ہی تو ہے الطاف حسین کسی کھمبے کو کھڑا کردیں تو اسے ووٹ کرے جو کسی کتے کو ناظم اعلی بنادیں تو اسے سپورٹ کرے اور یہی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی جیت ہے۔

حالیہ متنازعہ تقریر یا نویں کی بائیلوجی

image

دیکھو دیکھو.. الطاف حُسین کی حالیہ تقریر پر تنقید بھی کون لوگ کر رہے ہیں, وہ جنکو اُن کی بیگم نے خود انگلش اسٹائل سیکھائے ہیں, کہتے ہیں شریف لوگ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر یہ تقریر نہیں سن سکتے, بڑے آئے غیرت مند جب پھوپھو کی شادی میں انکی دختر نیک اختر شیلا کی جوانی اور منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے پر زور دار ڈانس کر رہی تھی تب کسی نے پوچھا, کون کی چھوری ہے یہ بڑا زور دار ڈانس کررہی ہے تو اُس وقت خوشی سے نوٹوں کی گڈی لوٹاتے ہوئے, پلٹ کر بڑے فکر سے بولے ارے میری ہے, تایا میری, قائد, رہبر, رہنما, زندگی کے اصول بتاتا ہے, ایک ایک بات, نہیں یقین تو اپنا ماضی دیکھو پورن دیکھ کر تو تم لوگ بیگم کو پیار کرنے کے قابل ہوپاتے ہو. ہاں یہ تو سہاگ رات میں ہی نئی نویلی دلہن کو فلم دیکھا کر کہتے ہیں, دیکھو ایسے, دیکھو یہ والا.. اوپر سے جواب ملتا ہے اُفففف آپ کتنے اولڈ فیشن ہیں توبہ.. اور شرافت ایسی کہ. یہ تقریر فیملی کے ساتھ نہیں سن سکتے.. ابے اگر الطاف حسین نے یہ تقریر پہلے کی ہوتی تو آج تمیں فلموں کا سہارا نہ لینا پڑتا اپنی آفزائش نسل کے لیے کیونکہ کتابیں تو تم اب پڑتے نہیں, جہاں زندگی گزارنے کا ایک ایک اصول لیکھا ہے, ایک مومن کیسے کامیاب زندگی گزارے, جس خاص پانی کا الطاف حسین نے زکر کیا تھا پر نہیں لیا وہ پانی کا نام آپ بھی جانتے ہو, اگر نہیں جانتے تو کتابیں پڑھو وہاں سب لیکھا ہے. غسل کیسے اور کس کس طرح واجب ہوتا ہے اور غسل حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے. میاں بیوی میں کتنا پردا جائز ہے, ہم بستری کا نہ صرف جائز طریقہ لیکھا ہیں بلکے فضائل بھی بیان کیے ہیں, بڑوں سے دور ہو بڑوں کی تعلیمات سے بھی دور ہو, انگریز کا کھاتے ہو, ہر کام انگریزی میں کرتے ہو پر غسل کرنا نہیں آتا جس کے بغیر نماز تو کیا مسجد کے قریب نہیں جاسکتے. اور لگے دوسرے کی اُس بات پر تنقید کرنے جو تم سے کی ہی نہیں, جو تمارے لیے سننا ضروری بھی نہیں تھی. جو اگر تماری فیملی نے سنی بھی نہیں تھی پر تماری پبلسٹی کی وجہ سے اُن لوگوں نے بھی ابھی تک سن بھی لی ہوگی.. چلو اچھا ہے, اب وہ بھی جانتے ہونگے حمل کیسے ٹھرتا ہے. اور آئندہ کیسے احتیاط کرنی ہے.. تاکہ پھر کوئی تمارے جیسا پیدا نہ ہوسکے.

تحریر قادر غوری
بشکریہ ابوعلیحہ

بازگشت

 

ایک طویل غیر حاضری کے بعد آج لکھنا بھت مشکل ثابت ہورہاہے۔لکھتے رہیں تو لکھا جاتا ہے ورنہ زنگ تو یھاں ہر چیز کو بھت جلد لگ جایا کرتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل قاعد متحدھ قومی موؤمنٹ کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ چند قووتیں مجھے راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں الطاف حسین کھٹکتا ہے۔ ابھی اس بیان کے اجراء کو بھت زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ انٹرنیشنل لیول پہ الطاف حسین پہ منفی سوالات سامنے آنے لگے۔کوئی دو چار انٹرنیشنل  رپورٹرز کو تو ٹاسک ہی اینٹی الطاف ملا۔ کئی بھت بڑے بڑے ٹاک شوز میں کردار کشی کی گئی۔ بات طوالت پکڑ جائے گی لیکن بی بی سی پہ نشر ہونے والی ڈاکیومینٹری اور نیویارک ٹائمز کی جانبدار رپورٹس تا حال لوگوں کو نھیں بھولیں کہ کس طرح ONE SIDED بات ہوئی۔

متحدھ قومی موؤمنٹ کے کنوینیر اور الطاف حسین کے دست راست ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں شھید کردیا گیا۔الطاف حسین کے رفیق کی شھادت کے بعد لکھنے والوں نے الطاف حسین پہ انگلیاں اٹھانا شروع کردی تھیں۔اوون بینٹ جونز ہو یا پاکستان میں بیٹھے نجم سیٹھی یہ تمام نیشنل و انٹرنیشنل لکھت کار الطاف حسین کو اپنی تحاریر میں  سولی چڑھا چکے تھے۔ لندن میں بیٹھے کچھ فری لانسرز بھی مخالفت میں میدان میں کود چکے تھے لیکن ایک تجزیہ نگار ایسا تھا جس نے جاگ ٹی وی پہ بیٹھ کے پیشن گوئی کہ کچھ بھی نھیں ہوگا۔بلکہ منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو پھنسایا جائے گا اور الطاف حسین کے خلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس کچھ نھیں ہے لیکن چونکہ ڈرامہ اتنا رچایا جاچکا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو دکھانا ہے صرف الطاف حسین کو پریشان کیا جائے گا۔اور الطاف حسین کو پھنسایا منی لانڈرنگ میں جائے گا۔  یہ صحافی تھے شاھد مسعود۔ اور یہی ہو  رہا ہے

بظاہر یہ سب کچھ ایسے ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے لیکن کیوں ! آخر وہہ کیا وجوھات ہیں کہ   آج اچانک پاکستان سے چندے کی یا دیگر ذرائع سے لندن آتا جاتا پیسہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آگیا۔ یہ پیسہ اسی طرح ۷۸ سے جمع ہورہاتھا اور ان ہی حوالوں کے ذریعے ۹۲ سے لندن جارہا تھا ۔ ایم کیو ایم کا  یہ کوئی نیا قدم نھیں تھا۔

ایسا کچھ نیا اور کچھ انھونی اچانک سے نھیں ہوئی کہ اچانک سارے مارگیج کیسز کھلنے لگے اور الطاف حسین کے رفقاء کو پولیس نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ در حقیقت بدلا کچھ نھیں بدلے تو انٹرنیشنل پلیئرز کے مفادات بدلے وھ جو کل تک انٹرنیشنل پلیرز کے دشمن تھے اب جگہ جگہ دوست بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہاں مراد جھادی گروپس اور پرو اسلامی تحاریک ہیں۔ قطر میں مذاکرات ہوں یا سوئس کانفرنس   ، لیبیا کی موجودھ صورتحال ہو یا بحرین و دیگر عرب و خلیجی ریاستوں کی صورتحال اس بات کی گواھ ہے کہ اسلامی مجاھدین اور پرو اسلامی حکومتوں کا قیام  عمل میں آرہا ہے اور وھ  لبرلز اور معتدل قووتیں جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ پہ بیعت کرنے پہ تیار نھیں ہیں ان کے گرد دنیا میں گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ جب تک پرو   اسلامی جھادی قووتوں سے انٹرنیشنل پلیرز  کی جنگ تھی تو یہ قوتیں  برسر اقتدار رہیں اب یہ معتدل قوتیں بحرین ، لیبیا ، و دیگر ممالک میں اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی درپیش ہے جس پہ ابھی بات ہوگی لیکن انٹرنیشنل پلیئرز کا طریقہ واردات اس دفعہ بھت مختلف رہا ہے ۔ تمام متعلقہ ممالک میں الیکٹورل تبدیلی لائی گئی ۔ یعنی اس دفہ خلیجی و عرب ریاستوں میں بیلٹ کے ذریعے اسلامی مجاھدین اور پرو اسلامی مجاھدین حکومتوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اگر ایسا سب کچھ ایساہی نھیں ہے تو کیوں لیبیا میں اسٹیٹ کے باغیوں سے مزاکرات ہورہے ہیں مصر میں پرو القاعدھ حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے۔آج امریکہ افغانستان میں  تحریک طالبان کے ساتھ بیٹتھا نظر   یعی کل جو دشمن تھے  وھ دوست بنتے جارہے ہیں۔

اس صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں بھی پچھلے سال ہی انتخابات ہوئے ہیں اور اتنی ھیوی انویسٹمنٹ کے نتیجے میں رکاوٹ صرف سندھ کے شھروں میں نظر آئی ۔ انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بنی اس نے حسب توقع فوری مذاکرات کا در کھولا حکومتی سطح پہ تو جنگ بندی ہوگئی کمیٹیاں بن گئیں گلے ملتے رہے قیدیوں کی رہائی تک کی باتیں سنی گئیں سب یار بن گئے لیکن ارض پاک میں ان تمام مصافحوں و معانقوں سے نہ پاک فوج خوش تھی نہ الطاف حسین ۔ اگر کوئی رکاوٹ خیبر سے کراچی تک انتھا پسندی کو ہے تو وہ افواج پاکستان اور اپنی تیئیں الطاف حسین ۔ اور اس وقت یورپی فنڈنگ سے چلنے والی چند این جی اوز ،ایک مخصو ص میڈیا گروپ تو مستقل افواج پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا ہے اور کسی طرح مقتدر حلقے الطاف حسین کو دام میں پھنسانے کی کاوشوں میں لگے ہیں۔ عمران فاروق مرڈر کیس ہو یا پیسے کی جنیریشن کے مسائل ، منی لانڈرنگ ہو یا کوئی اور مارگیج کیس مقصدیت صرف بلیک میلنگ نظر آتی ہے ۔

الطاف حسین کے گرد بدنامی کے گھیرے ہوں یا آئی ایس آئی اسکینڈل میں پاک فوج کو داغ دار کرنے کی سعی اس کے مقاصد پہ انشاءاللھ اگلی بار لکھیں گے لیکن دعائے حقیر فقیر یہ ہے کہ پروردگار عالم  ہر قسم کی سازش بھت جلد ناکام ہو  اپنے دائمی انجام کو پہنچے۔ اور محبان پاکستان کو فتح مبین نصیب ہو۔ آمین بجاھ نبی الامین علیھ الصلوۃ و التسلیم۔