ضمیر لوٹ میلہ

آجکل ڈیفنس کراچی میں ضمیر جگاؤ مہم زورو شور سے جاری ہے۔ ۵ کے قریب افراد کے ضمیر جاگ چکے ہیں اور دو چار کے شاید اور جاگ جائیں۔لیکن یہ جاگنے والے سارے ضمیر پرانی سبزی منڈی کے ہیرونچیوں سے قطعی کم نہیں کہ جب بھی جاگتے ہیں بوٹوں کی آہٹ سے ہی جاگتےہیں۔ فی زمانہ ضمیر جاگنے کی سب سے بڑی کرامت  تمام الزامات سے بری ہونا ہے۔ جس جس کا ضمیر جاگتا جارہا وہ خود بخود گنگا نہاکر ڈیفنس فیز سکس خیابان سحر پہ جمع کیا جارہا ہے۔ یہ جاگےضمیر کی ہی تو کرامت ہے کہ میڈیا اور لوگ شبقدر واقعہ۔۔ CPEC نیب کو لگام لگانا۔۔۔ سیکورٹی کے حالات۔۔۔ذوالفقار مرزا…ممتاز قادری  سب بھول گئے۔بس یاد رہا تو صرف ضمیر۔

اس سے پہلے بھی اس ملک میں جاگے ضمیر نامی ڈرامے اور کہانیاں چلتی رہی ہیں ۔ہدایتکار کی ہدایت پہ کرداروں کے ضمیر وقتاًفوقتاً جاگتے رہے لیکن ڈرامے کے اختتام کے ساتھ ساتھ جاگے ضمیر کا کردار ہمیشہ  ہی ختم ہوتارہا ہے کیونکہ جاگے ضمیر کو بھی ڈرامے کے اختتام پہ ہی سمجھ آتا ہے کہ کردار چاہے کتنا ہی باضمیر کا ہو کہانی کیساتھ ختم ہوجاتا ہے۔کہانی ختم کردار ختم۔ گر یاد کریں تو یاد آئیگا کہ ایک تھی ق لیگ،ایک تھا میاں اظہر،ایک تھا صولت مرزا،ایک تھا یحیی بختیار اور مستقبل قریب میں  ایک ہوگا مصطفی کمال۔

اس دفعہ جاگے ضمیر گنگا نہائے آٹھ دس افراد کی قیادت آئی سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کے حصے میں اور ہدایت کار کی ہدایت کے عین مطابق آپ نے کردار ادا کرنا شروع کیا۔آج تک کی تمام پریس کانفرنسز میں کمال نے جتنی باتیں کیں وہ ایک سے بڑھ ایک پرانی باتیں تھیں کچھ بھی نیا نہیں تھا یہ ساری باتیں چند افراد کا ٹولہ ۹۲ میں بھی کرچکا ہے۔اسی طرح کے الزامات یہی سب کچھ حتی کہ انکے اسکرپٹ میں بھی جھنڈا پاکستان ہی کا ہواکرتا تھا لیکن نتیجہ کیا ہوا کچھ بھی نہیں انکی کسی بات پر عوام و کارکنان نے کان دھرے قطعی نہیں بلکہ کوئی ۱۵سال تو کوئی ۱۸سال بعد معافی مانگ مانگ کر واپس آیا۔ لیکن ۹۲ کے کرداروں کی خوش نصیبی یہ تھی پندرہ سترہ سال بعد انہیں معاف کرنے کیلئے الطاف حسین نہ صرف موجود بلکہ صحت مند تھے۔کیونکہ یہ بات مصطفی کمال بھی بخوبی جانتے تھے جس دن الطاف حسین نہیں ہوں گے اس دن پھر کون مصطفی کمال یا کون زید اور کون بکر یہ قوم بےضمیروں کو جوتیوں میں دال بانٹے گی۔ یہ کسی اور کے قابوکے نہیں۔

اور جہاں تک بات اختلاف کی ہے تو ایم کیو ایم میں رہ کر بھی لوگوں نے اختلاف کیا اور ایم کیو ایم سے کنارہ کشی اختیار کرکے بھی لوگوں نے اختلاف کیا۔ سیاسی جماعتوں میں نظریے کی بناد پہ مختلف لابیز ہوا کرتی ہیں جن میں صحت مند اختلاف ان سیاسی جماعتوں کی کامیابی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔  حالیہ مثالوں میں ایک مثال عامر لیاقت کی بھی تو ہے ایم کیو ایم کے رکن کی حیثیت سے اسٹیٹ منسٹر اور پھر وزارت سے استعفی اور ایم کیو ایم سے بھی استعفی لیکن کیا عامرلیاقت نے اپنے محسن اپنی قوم کے لیڈر کی کردار کشی کی قطعی نہیں کی۔ عامر لیاقت دنیا کے ۵۰۰بااثر افراد میں سے ایک ہیں انکے تعلقات اسٹیبلشمنٹ اور پریس سے کمال سے کہیں کمال کے ہیں لیکن بات صرف اتنی ہے کہ عامر لیاقت کم ظرف نہیں تھا اسکی رگوں میں شیخ لیاقت کا خون تھا لیکن کمال کا ابھی تک کمال صرف یہ ہے کہ علاوہ اپنے محسن کی کردار کشی اور کوئی بات ان کے منہ سے نکل ہی نہیں رہی یا تو موصوف اپنی تعریف میں رطب السان ہیں یا ان کی کردار کشی میں بولے جارہے جن کے آگے ہاتھ باندھے ہاتھ نہ تھکتے تھے۔اور یہ شر تو کمال کے کمال سے متوقع تھا ہی کیونکہ مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماگئے کہ جس کیساتھ نیکی کرو اسکے شر سے بچو۔  

چلتے چلتے کمال اور کمال کے ضمیر کو یاددلاتے چلیں ۹۲ ہو یا ۲۰۱۶ زمانہ شاہد تھا اور زمانہ شاہد ہے کہ اگر پوری کی پوری ایم کیو ایم بشمول سپریم کونسل و رابطہ کمیٹی بھی کسی اور کیمپ میں چلے جائیں تو جائیں ایم کیو ایم کے کارکن اور ایم کیو ایم کا ووٹر صرف الطاف حسین سے جڑا ہے اور جڑا رہے گا اسکی تربیت کا خاصہ ہی تو ہے الطاف حسین کسی کھمبے کو کھڑا کردیں تو اسے ووٹ کرے جو کسی کتے کو ناظم اعلی بنادیں تو اسے سپورٹ کرے اور یہی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی جیت ہے۔

ایک بال پہ چار وکٹیں

کراچی کا ضمنی انتخاب برائے این اے ۲۴۶ ہوہی گیا۔اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حسب روایت متحدہ قومی موومنٹ ۹۵۸۰۰ ووٹ لیکر کامیاب رہی۔تحریک انصاف کم و بیش ۲۰ہزار ووٹ لیکر دوسرے اور ۸۰۰۰ووٹ لیکے جماعت اسلامی ضمانت ضبط کراتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہی۔کراچی کے اس ضمنی انتخاب کے بارے میں کہا اور لکھا جارہا تھا کہ اس کا نتیجہ ملکی سیاست کے افق پہ انتہائی اہم کردار نبھائے گا۔

ہم نے عمران خان صاحب سے بارہا سنا ہے کہ ایک بال پہ دو دو وکٹیں گرنے والی ہیں۔حال ہی میں آپ نے میرپور آزاد کشمیر میں بھی اسی قسم کی بات کی تھی۔لیکن ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ بال تو ہوئی پر وکٹ کوئی نہ گری۔اگر ایک وکٹ بھی گرجاتی تو کم از کم  آج نواز شریف وزیر اعظم تو نہ ہوتے۔ہاں خان صاحب آوٹ ہے کی اپیل کا شور ڈالتے ائمپائر کی طرف منہ کرکے چلاتے تو پائے گئے پر ائمپائر کی انگلی کھڑی کرانے میں ہمیشہ ہی ناکام رہے۔ سیانے عمران خان کو سمجھایا کرتے تھے کہ یہ کرکٹ کی نہیں سیاست کی پچ ہے۔یہاں ایک بال پہ کئی کئی وکٹیں بھی گراکرتی ہیں لیکن آپ کے کھیلنے کا انداز ہی صحیح نہیں آپ سیاست کی پچ کے بولر ہی نہیں۔ سیاسی بالر کیسا ہونا چاہیئے یہ ہم نے  اس ضمنی انتخاب کے سیاسی گراونڈ کی پچ پہ دیکھا۔ہم سب نے دیکھا کہ ایم کیو ایم نے ایک بال پہ چار وکٹیں لیں۔پہلی وکٹ تحریک انصاف دوسری جماعت اسلامی تیسری وکٹ اسٹیبلشمنٹ اور اسی گیند پہ میڈیا بھی کلین بولڈ ہوا۔

نبیل گبول کے استعفے سے جو کہانی شروع ہوئی تھی اس کہانی میں بےشمار کردار ادا ہوئے۔الزامات و داستان امیر حمزہ شروع ہوگئی۔صولت مرزا کارڈ استعمال ہوا۔ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر پہ چھاپہ مارا گیا سو سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔حتہ کہ پوری کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو اٹھایا گیا اور کراچی میں ایک نیا دھندا شروع ہوگیا۔روزانہ رات ۸سے ۱۱ مختلف ٹی وی چینلز کا کام صولت مرزا کی تحقیق رہ گیا۔اور یہ صولت مرزا کارڈ تاثر ایسے قائم ہوا کہ ہماری جیلوں میں ایسے قیدی بھی ہیں کہ کہ جنہوں نے مخالفت مسلک کی بنیاد پہ ۱۰۰/ ۲۰۰ قتل کئے اور پھانسی کے منتظر ہیں لیکن ان کے کسی فیملی ممبر کا کوئی بیان کبھی نہیں چلا ان میں سے کسی کی ویڈیو نہیں بنی۔اس بات سے قطعی نظر کہ پھانسی کے منتظر بندے کے بیان کی قانونی حیثیت کیا ہے لیکن یہ کارڈ بھی استعمال ہوا۔حتہ´ کہ  ایم کیو ایم کے کارکن کو زندہ لاشیں اور اردو بولنے والوں کو کالا کلوٹا کہکر تضحیک کی گئی اور تیسرے درجے کے شہری ہونے کا احساس دلایا گیا۔جیب میں شناختی کارڈ نہ ہونے پہ ہندوستانی کہ کر اٹھایا گیا۔کہ کلرڈ یا فوٹو کاپی کو بھی قبول نہ کیا گیا۔اردو بولنے والوں کو ریئس امروہی مرحوم کا شعر ایسے میں ضرور یاد  آیا ہوگا کہ
’’ہر عہد کی شہریت سے محروم
ہر شہر میں بے وطن ہیں ہم لوگ ‘‘

پاکستان کی تاریخ میں یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔شہید بی بی صاحبہ نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست بھی کی اور ۸۸میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ الیکشن بھی جیتا۔میاں محمد نواز شریف بھی ۸  سال جلاوطنی کی زندگی میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہے اور ۲۰۰۲ اور ۲۰۰۷کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف پہ الیکشن بھی لڑا اور بہت زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کی۔خود ایم کیو ایم پہ یہ وقت ۹۲سے ۹۹تک رہا ہے۔لیکن آج میڈیا کچھ زیادہ ہی آزاد ہے پہلے ٹرائلز عدالتوں میں چلا کرتے تھے اب پہلے میڈیا پہ ہوا کرتے ہیں پھر کہیں اور۔

سب ہی کا ماننا ہے کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا شہر ہے یہاں کے باسی وقت کے دھارے میں نہیں بہاکرتے یہ اپنی سوچ رکھتے ہیں اور چیزوں کو پیمانوں پہ تول کے وزن دیا کرتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ووٹ کی خاطر جب میانوالی کے پٹھان بھی مہاجر بن گئے تو یہ منافقت والی سوچ رد ہوئی۔اور ویسے بھی کراچی کی تاریخ ہے کہ کراچی نے پاک فوج کیلئے اظہار یکجہتی کے جلسے تو منعقد کئے لیکن ایمپائر کی انگلی پہ کبھی ڈانس نہیں کیا۔ائمپائرکے ساتھ فکس میچ کبھی نہیں کھیلا۔جب بھی کھیلا میرٹ پہ کھیلا۔سو کراچی نے اس بار بھی اپنے آپ کو ڈی میرٹ نہیں کیا۔

اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ تبدیلی کے نعرے اور صولت مرزا کارڈ و میڈیا ٹرائل اور چھاپوں سے ایم کیو ایم کے گراف میں اضافہ ہوا ہے۔۲۰۱۳میں کاسٹ کیئے گیئے ووٹوں میں سے متحدہ کو ۷۲% کاسٹ ہوئے تھے جبکہ اس دفعہ ۷۸%ووٹ متحدہ کو پڑا۔ لگتا کچھ ایسا ہے کہ سونامی لیاقت آباد کی ندی میں بہ چکا ہے۔ اس نتیجے کے نتیجے میں اب جوڈیشل کمیشن اور اسکے فیصلے کی حیثیت ثانوی سی رہ گئی ہے۔ڈی چوک پہ وزیراعظم کو گھسیٹنے سے لیکر  پی ٹی وی حملہ اور چار حلقوں کا ڈرامہ بھی پاکستانیوں کی سمجھ آچکا ہے۔یہ منہ کی فائرنگ کا انجام سیاست میں یہی ہوا کرتا ہے جو آج تحریک انصاف کا ہے کہ ایمپائر فون اٹھانے پہ بھی تیار نہیں۔

چلتے چلتے خان صاحب اور سلیم ضیاء صاحب یاد رکھیں کہ زندہ لاشیں اور یہ کالی کلوٹی قوم کے افراد ہیں میاں محمد نوازشریف نہیں۔نہ یہ وزیراعظم ہیں نہ ان میں غلط کو برداشت کرنے کی صلاحیت انہیں زندہ لاشیں بولیں گے کالا کلوٹا بولیں گے تو ساری عمر یہ آدھے مہاجر آدھے نامعلوم کو یونہی نشان ذلت بناتے رہیں گے جب کسی کو لفظ فرعون بولو تو پھر جواباً حرام خان جیسے لفظ کو بھی  برداشت کرنا سیکھیں۔کیونکہ کراچی نے ثابت کردیا کہ

؂’’دھجیاں جیب و گریباں کی نہ اڑنےدیں گے
بے  خبر  لاکھ  سہی  پھر  بھی خبردار ہیں ہم‘‘

image

میری وزیر اعظم صاحب سے اور دیگر ن لیگی رہنماوں سے درخواست ہے کہ سلیم ضیاء اپنے القابات کی معافی مانگیں ورنہ سوچیں کہ کشمیری سرخ و سفید سیب کالے کلوٹوں کے پاس کس منہ سے آئیں گے۔اب الیکشن ختم ہوچکا ہےآپ بڑے بھائی ہیں بڑے بنیں۔

بازگشت

 

ایک طویل غیر حاضری کے بعد آج لکھنا بھت مشکل ثابت ہورہاہے۔لکھتے رہیں تو لکھا جاتا ہے ورنہ زنگ تو یھاں ہر چیز کو بھت جلد لگ جایا کرتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل قاعد متحدھ قومی موؤمنٹ کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ چند قووتیں مجھے راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں الطاف حسین کھٹکتا ہے۔ ابھی اس بیان کے اجراء کو بھت زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ انٹرنیشنل لیول پہ الطاف حسین پہ منفی سوالات سامنے آنے لگے۔کوئی دو چار انٹرنیشنل  رپورٹرز کو تو ٹاسک ہی اینٹی الطاف ملا۔ کئی بھت بڑے بڑے ٹاک شوز میں کردار کشی کی گئی۔ بات طوالت پکڑ جائے گی لیکن بی بی سی پہ نشر ہونے والی ڈاکیومینٹری اور نیویارک ٹائمز کی جانبدار رپورٹس تا حال لوگوں کو نھیں بھولیں کہ کس طرح ONE SIDED بات ہوئی۔

متحدھ قومی موؤمنٹ کے کنوینیر اور الطاف حسین کے دست راست ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں شھید کردیا گیا۔الطاف حسین کے رفیق کی شھادت کے بعد لکھنے والوں نے الطاف حسین پہ انگلیاں اٹھانا شروع کردی تھیں۔اوون بینٹ جونز ہو یا پاکستان میں بیٹھے نجم سیٹھی یہ تمام نیشنل و انٹرنیشنل لکھت کار الطاف حسین کو اپنی تحاریر میں  سولی چڑھا چکے تھے۔ لندن میں بیٹھے کچھ فری لانسرز بھی مخالفت میں میدان میں کود چکے تھے لیکن ایک تجزیہ نگار ایسا تھا جس نے جاگ ٹی وی پہ بیٹھ کے پیشن گوئی کہ کچھ بھی نھیں ہوگا۔بلکہ منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو پھنسایا جائے گا اور الطاف حسین کے خلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس کچھ نھیں ہے لیکن چونکہ ڈرامہ اتنا رچایا جاچکا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو دکھانا ہے صرف الطاف حسین کو پریشان کیا جائے گا۔اور الطاف حسین کو پھنسایا منی لانڈرنگ میں جائے گا۔  یہ صحافی تھے شاھد مسعود۔ اور یہی ہو  رہا ہے

بظاہر یہ سب کچھ ایسے ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے لیکن کیوں ! آخر وہہ کیا وجوھات ہیں کہ   آج اچانک پاکستان سے چندے کی یا دیگر ذرائع سے لندن آتا جاتا پیسہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آگیا۔ یہ پیسہ اسی طرح ۷۸ سے جمع ہورہاتھا اور ان ہی حوالوں کے ذریعے ۹۲ سے لندن جارہا تھا ۔ ایم کیو ایم کا  یہ کوئی نیا قدم نھیں تھا۔

ایسا کچھ نیا اور کچھ انھونی اچانک سے نھیں ہوئی کہ اچانک سارے مارگیج کیسز کھلنے لگے اور الطاف حسین کے رفقاء کو پولیس نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ در حقیقت بدلا کچھ نھیں بدلے تو انٹرنیشنل پلیئرز کے مفادات بدلے وھ جو کل تک انٹرنیشنل پلیرز کے دشمن تھے اب جگہ جگہ دوست بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہاں مراد جھادی گروپس اور پرو اسلامی تحاریک ہیں۔ قطر میں مذاکرات ہوں یا سوئس کانفرنس   ، لیبیا کی موجودھ صورتحال ہو یا بحرین و دیگر عرب و خلیجی ریاستوں کی صورتحال اس بات کی گواھ ہے کہ اسلامی مجاھدین اور پرو اسلامی حکومتوں کا قیام  عمل میں آرہا ہے اور وھ  لبرلز اور معتدل قووتیں جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ پہ بیعت کرنے پہ تیار نھیں ہیں ان کے گرد دنیا میں گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ جب تک پرو   اسلامی جھادی قووتوں سے انٹرنیشنل پلیرز  کی جنگ تھی تو یہ قوتیں  برسر اقتدار رہیں اب یہ معتدل قوتیں بحرین ، لیبیا ، و دیگر ممالک میں اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی درپیش ہے جس پہ ابھی بات ہوگی لیکن انٹرنیشنل پلیئرز کا طریقہ واردات اس دفعہ بھت مختلف رہا ہے ۔ تمام متعلقہ ممالک میں الیکٹورل تبدیلی لائی گئی ۔ یعنی اس دفہ خلیجی و عرب ریاستوں میں بیلٹ کے ذریعے اسلامی مجاھدین اور پرو اسلامی مجاھدین حکومتوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اگر ایسا سب کچھ ایساہی نھیں ہے تو کیوں لیبیا میں اسٹیٹ کے باغیوں سے مزاکرات ہورہے ہیں مصر میں پرو القاعدھ حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے۔آج امریکہ افغانستان میں  تحریک طالبان کے ساتھ بیٹتھا نظر   یعی کل جو دشمن تھے  وھ دوست بنتے جارہے ہیں۔

اس صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں بھی پچھلے سال ہی انتخابات ہوئے ہیں اور اتنی ھیوی انویسٹمنٹ کے نتیجے میں رکاوٹ صرف سندھ کے شھروں میں نظر آئی ۔ انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بنی اس نے حسب توقع فوری مذاکرات کا در کھولا حکومتی سطح پہ تو جنگ بندی ہوگئی کمیٹیاں بن گئیں گلے ملتے رہے قیدیوں کی رہائی تک کی باتیں سنی گئیں سب یار بن گئے لیکن ارض پاک میں ان تمام مصافحوں و معانقوں سے نہ پاک فوج خوش تھی نہ الطاف حسین ۔ اگر کوئی رکاوٹ خیبر سے کراچی تک انتھا پسندی کو ہے تو وہ افواج پاکستان اور اپنی تیئیں الطاف حسین ۔ اور اس وقت یورپی فنڈنگ سے چلنے والی چند این جی اوز ،ایک مخصو ص میڈیا گروپ تو مستقل افواج پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا ہے اور کسی طرح مقتدر حلقے الطاف حسین کو دام میں پھنسانے کی کاوشوں میں لگے ہیں۔ عمران فاروق مرڈر کیس ہو یا پیسے کی جنیریشن کے مسائل ، منی لانڈرنگ ہو یا کوئی اور مارگیج کیس مقصدیت صرف بلیک میلنگ نظر آتی ہے ۔

الطاف حسین کے گرد بدنامی کے گھیرے ہوں یا آئی ایس آئی اسکینڈل میں پاک فوج کو داغ دار کرنے کی سعی اس کے مقاصد پہ انشاءاللھ اگلی بار لکھیں گے لیکن دعائے حقیر فقیر یہ ہے کہ پروردگار عالم  ہر قسم کی سازش بھت جلد ناکام ہو  اپنے دائمی انجام کو پہنچے۔ اور محبان پاکستان کو فتح مبین نصیب ہو۔ آمین بجاھ نبی الامین علیھ الصلوۃ و التسلیم۔

آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

Image

آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس میں قیمت کوئی نهیں ہے تیری میری جان کی…حکموں کی بولی لگتی ہے  ایوانوں میں روز یہاں
ہوتی ہے بے خوف تجارت مذہب اور ایمان کی

دیکهو تو ہر سمت محافظ ہر سو ناکے ہوتے ہیں
پهر بهی لاشیں گرتی ہیں اور روز دهماکے ہوتے ہیں… گهومتے ہیں آزاد یہاں پر  لیکن مجرم تهانوں میں
نوٹس بورڈ پہ قیدی بس صرف ان کے خاکے ہوتے ہیں

جنگ لگی رہتی ہے اکثر کرسی پہ گهمسان کی
آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی.

 

یہ جو محلوں میں رہتے ہیں ان کو لیڈر کہتے ہیں
ان کو دے کر ووٹ خوشی سے لوگ ہر ایک غم سہتے ہیں….خوشحالی کا دیس ہے بچوں آنکهیں کهول کے دیکهو تم
ایک وقت کا کهانا کها کر لوگ یہاں خوش رہتے ہیں

 

بات کروں مہنگائی کی یا بجلی کے بحران کی
آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی.

 

دیکهو گهر سے باہر جانا لیکن خیال سے جانا تم
جتنی جلدی ممکن ہو گهر لوٹ کے واپس آنا تم…کاروبار بهت اچها ہے لاکهوں اغوا کاروں کا
اپنے آپ قریب وغیرہ سب کو یہ سمجهانا تم

جان چلی جاتی ہے پیسے نہ ہوں جو تاوان کی
آو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی.

کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم ۔۔۔ حبیب جالب

 
یہ شعلہ نہ دب جائے یہ آگ نہ سو جائے
پھر سامنے منزل ہے ایسا نہ ہو کھو جائے
ہے وقت یہی یارو، جو ہونا ہے ہو جائے
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سر خم
اس وادی پرخوں سے اٹھے گا دھواں کب تک
محکومی گلشن پر روئے گا سماں کب تک
محروم نوا ہوگی غنچوں کی زباں کب تک
ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
وتنام و فلسطیں ہو انگولا کہ ہو کانگو
انسان کی آنکھوں سے گرتے ہوں جہاں آنسو
اے شامِ ستم ہر جا توڑیں گے ترا جادو
دیکھا نہیں جاتا اب مظلوم کا یہ عالم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
اٹھے ہو نگاہوں میں تم سوز یقیں لے کر
امریکہ کی بندوقیں ہو جائیں گی خاکستر
پروردہ واشنگٹن جائیں گے کہاں بچ کر
ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہاں برہم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم

شاعر: حبیب جالب

نئی رزمگاه‎

دنیا میں سنتے آئے ہیں کہ حالات بدلا کرتے ہیں.کسی بهی قوم یا ملک کے حالات ، مفادات سے بلواسطہ یا بلا واسطہ وابسطہ ہوتے ہیں.بیشک مستقل نهیں ہوتے لیکن تغیر میں وقت لگا کرتا تها.پر نہ جانے فی زمانہ وقت کو پر لگ گئے ہیں یا حالات ، و واقعات کو یا ہم باتوں کو کچه زیادہ سمجهنے لگے.فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا.

کل تک جو قاتل تهے وہ اچانک سے مظلوم بن جاتے ہیں.جن کے خلاف فوج لڑتی رہی اور پچاس ہزار 50000 افراد نے اپنی جانیں هاریں وہ جو کل تک اسلام کے دشمن تهے اچانک سے بهت سے کے منظور نظر هوگئے.اچانک سے قاتلوں سے مذاکرات کی میز سج گئی کیوں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو جماعت اسلامی کل تک طالبان کو مغرب کی پیداوار کہتی تهی آج اچانک سے اس کی محبت میں کیوں پاگل ہے.؟ وہ عرفان صدیقی جو کل تک ان کو کافر اور ان سے جنگ کی باتیں کرتے تهے اچانک کیسے تبدیل ہوگئے؟ کیوں اچانک امریکہ قطر میں دفتر کهول کے طالبان سے ڈیل کرنے کی سعی کرتا  ہے اور اس بالآخر  ڈیل کے نتیجے میں عراق میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو عراقی فوج میں اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیز میں ایڈجسٹ بهی کیا جاتا ہے.؟

Taliban created by Western powers: Qazi – thenews.com.pkhttp://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=174444&Cat=2&dt=4/27/2009

Jang Group Online – http://jang.com.pk/jang/dec2009-daily/10-12-2009/col2.htm  Jang Group Online – http://jang.com.pk/jang/dec2009-daily/09-12-2009/col3.htm

جب اس لیول پہ تبدیلیاں ہوں تو اب چونکنے کی کوئی گنجائش نهیں رہتی کہ جماعت اسلامی اور عرفان صدیقی بدل گئے.یہاں تو سبهی کچه بدلا جارہا ہے.لیکن اس تبدیلی کو سمجهنے کی ضرورت ہے کہ  کراچی کی ایمپریس مارکیٹ گواہ ہے دو سال قبل تک جماعت اسلامی یوم فلسطین یا فلسطین کی آزادی کرتی نظر آتی تهی.لیکن پچهلے دو سال سے جماعت اسلامی نے کوئی یوم فلسطین نهیں منایا.کشمیر کے موقف پہ بهی جماعت اسلامی و دیگر جهادی تنظیمیں لچک دار اور نرم رویہ اپناتی نظر آتی ہیں.جهادی تنظیمیں بالخصوص جماعت اسلامی و القاعدہ کا تو بنیادی نعرہ امریکہ کا ایک علاج الجهاد الجهاد ہوا کرتا تها لیکن آج یہ نعرہ بهی مدهم ہوتا نظر آرہا ہے.یعنی امریکہ \ مغرب کی اپنے دونوں محاذوں یعنی عراق و پاک افغان محاذ پہ  اپنے مخالفین کے ساته انڈر اسٹینڈنگ ہوتی واضح نظر آرہی ہے.ہماری زبان میں کہتے ہیں سیٹنگ ہوگئی ہے.

یہ انڈرسٹینڈنگ کیسے ہوئی اور کون کون سے پلیئرز نے کیا کیا رول پلے کیا اس کی تفصیل پهر سهی لیکن مختصرا یاد دلاتے چلیں کہ القاعدہ بنیادی طور پہ عربوں کی وہ انقلابی اسلامی جهادی تنظیم جو کہ مغرب سپورٹ سے معرض وجود میں آئی.جس کا بنیادی مقصد روس امریکی جنگ میں امریکی سپورٹ اور روس کی تباهی تهی اور القاعدہ کا دوده شریک بهائی جس کا نام  طالبان  تها اور اس کا بنیادی مقصد بهی سوشلزم کی سیکیولرازم کی یعنی روس کی تباهی ٹهرایا گیا تها.

سعودی عرب کے موجودہ وزیر داخلہ  اور امریکہ میں سابق سعودی سفیر شاه بندر کی امریکہ دورے اور جان کیری کے سعودی عرب آنے کو اگر کوئی انالسٹ محض اتفاق تصور کرے تو وہ غلط ہوگا.ہماری ادهوری لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس ساری ڈیل میں سعودی حکومت بالخصوص وزیر داخلہ شاه بندر نے اہم کردار ادا کیا.اس ساری ڈیل میں صرف یہ یاد دلایا گیا کہ  کیا تمهارے قیام کا مقصد امریکہ سے جهاد تها؟کیسے چالیں چلیں گئیں یہ پلیئرز جانیں لیکن جو نظر آرہا ہے کہ گارنٹر عرب قرار پائے ہیں.اللہ معاف کرے کہنے والے کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو سعودی ہی اصل حاکم ہوگئے ہیں.اب فیصلے پاک سعودی مفادات میں ہوں گے.

یہ تصویر اور واضح ہوئی جب ایمن اظواہری نے شام اور عرب کے مختلف گروپوں کو خط لکها.اس خط میں ایمن اظواہری نے واضح طور پہ اپنے اگلے جهاد کے رخ کا تعین کیا کہ  ہمارا دشمن سیکیولر ہے اور ایک مخصوص فرقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کو اپنا دشمن گردانا.اپنے جهاد کو القاعدہ کے سربراہ نے روس ، ایران ، اور چائنا کے رخ پہ ڈالا ہے اور واضح طور پہ ان تین ممالک کا نام لیا.
The Washington Post – http://m.washingtonpost.com/world/national-security/al-qaeda-leader-zawahiri-seeks-to-end-infighting-among-syrian-radicals/2014/01/23/05c80874-8451-11e3-8099-9181471f7aaf_story.html

Image

بات واضح ہے کہ حالت جنگ میں دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے. یہ نئی دوستیاں ہیں اور نئی رزمگاه (میدان جنگ) ہے. پاکستان میں ریت ڈالتا شیعہ قتل عام بهی اسی سلسلے کی اک کڑی سی معلوم ہوتا ہے.  انٹرنیشنل پلیرز بچهی بساط پہ چالیں چل رہے ہیں.جو ان پلیئرز و گارئنٹرز  کیلیے رکاوٹیں کهڑی کرے گا جو انٹرنیشنل پاور پلیئرز کو منع کرے گا کہ تم 78 سے اس خطے کے  کے مسلمانوں کا خون جهاد کے نام پہ ریال اور ڈالروں کے بل پہ بہائے  جارہے ہو یہ بند کرو .جو انٹرنیشنل پلیئرز کے خریدے کسی بهی طالبان کو بیڈ کہے گا تو اس کے گرد گهیرے پڑیں گے. نیشنل انٹرنیشنل معاملات میں الجهایا بهی جائے گا. لیکن اب وقت ہے ہم من حیث القوم پاکستانی اٹه کهڑے ہوں اور انتها پسندی و جنگی طبیعت رکهنے والوں سے اعلان جنگ کیا جائے اور حکومت وقت کو مجبور کیا جائے طالبان ، القاعدہ و پرو القاعدہ افراد کا نہ صرف بائیکاٹ کریں بلکہ ان کے خلاف اعلان جنگ کریں. میرا سوال یہ ہے کہ 78 سے جهاد بار بار ہم لڑتے ہیں کبهی  کسی سے تو کبهی کسی سے لیکن هر جهاد کے آخر میں ہماری جیت کے باوجود فواعد اور جیت کے ثمرات صرف امریکہ کو ہی حاصل کیوں ہوتے ہیں.؟ہر دفعہ ہم ہی ایندهن کیوں بنتے ہیں.اور کیا اب ہمارے نام نهاد مذهبی ، سیاسی و طالبانی نمائندگان ہمیں ایک نئے مفادات کے جهاد کا ایندهن بنانے جارہے ہیں.؟ سیکیلولر اور شیعہ ریاست کے خلاف جهاد . ہمارے موجودہ رویوں سے لگتا ہے کہ ہماری تو داستاں بهی نہ ملے گی داستانوں میں

تحریر جنید رضا

تحفظ قانون پاکستان

تحفظ قانون پاکستان

تحریر: جنید رضا

missing

آج آمنہ مسعود جنجوعہ یاد آگئیں کہ کہا کرتی تهیں چیف جسٹس آزاد ہوجائیں بحال ہوجائیں تو مسعود آجائیں گے.کچه بهی تها اچها یا برا ایک بهرم تها ایک عام آدمی کا مان تها افتخار چوهدری. نتایج کیا رہے ایک الگ بحث ہے. لیکن بے شک مسنگ پرسنز کے حوالے سے بهت کام کیا ہے- آپ نے ان مقتدر ایجنسیز سے بهی جواب طلب کیا جو کهبی جوابدہ نہ رہے تهے-

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ریٹائرڈ ہونے کی دیر تھی اور خود کو هسپتال میں دل کے درد کے بہانے میں داخل کرانے والے ایف سی کے  ڈی جی (جن  کا خوف سابق سی جے پی کے سامنے دیدنی رہا تها) بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے آکهڑے  ہوئے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل آئین و قانون کی حدود میں نہیں ماورائے ائین و قانون ریاستی رٹ میں ہے۔عزت مآب ایف سی کے سربراہ کے اس بیان کے چوبیس گھنٹوں بعد ایوان صدر سے ریاستی و سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی گمشدگيوں کے تحفظ کا آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔ پاکستان کے شہریوں کو قانون و ریاست کے رکھوالوں کے ہاتھوں ڈاکوئوں کی طرح اغوا اور اغواکاروں کے تحفظ کو بدقسمتی سے پاکستان کے تحفظ کا نام دے  دیا گیا.یہ قاعد اعظم کے افکار کا مذاق ہی تو ہے کہ آپ نے کہا تها کہ ’’پاکستان کے اندر کسی بھی شخص کو عدالت قانون سے رجوع کئے بغیر ایک سیکنڈ کیلئے بھی نظربند یا قید نہیں رکھا جا سکتا‘‘

لیکن بفضل مہر ممنون حسین تحفظ پاکستان کے نام پر کسی بھی شخص کو ریاستی و سیکورٹی ادارے تین ماہ تک کسی بھی عدالت سے رجوع کئے بغیر قید رکھ سکتے ہیں اور اٹھائے جانے والے شخص کی قید کی جگہ خفیہ ہو گی۔ جیسے اب تک ہزاروں گمشدہ لوگوں کی برسوں سے گمشدگیوں کے مقامات اور گم کردہ ادارے معلوم ہوتے ہوئے بھی نامعلوم بتائےجاتے ہیں۔تحفظ پاکستان آرڈیننس ایسے بدنام زمانہ قوانین کا تسلسل ہے جب پاکستان ڈیفنس رولز یا ڈی پی ار ذوالفقار علی بھٹو جیسوں نے مخالفین کو زچ کرنے کیلیے نافذ کیا.ضیاء نے اسے اور سخت بناتے ہوئے دیگر پابندیاں بهی عائد کیں.بقول جالب

تم سے پہلے جو یہاں ایک شخص تخت نشیں تھا

اس کو بھی خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
( جالب).

سمجه نهیں آتا کہ یہ کون سے حاکم ہیں اور کیسے حکمران یا کہیں کے اغواء کار کہ پچهلے سات ماه میں لاتعداد مسنگ پرسن کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود  کوئی سنوائی نهیں بلکہ ایک سیاه قانون ملک پہ مسلط کیا جارہا ہے.اب اگر آج ہمیں آصف علی زرداری کی کمی محسوس نہ ہو تو کم ظرفی ہوگی.کہ پورے ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ بنایا اور کچه آزادی کی سی کیفیت بهی محسوس ہوتی تهی پاکستان میں. بلوچستان کے ماما قدیر کا بیٹا ہو یا کراچی کا انور انصاری ہو یا مسعود جنجوعہ دکه سب کا برابر ہے اور سب لاپتا افراد ایسے ہی سیاه قوانین کے ستاbalئے ہیں.


آج بلوچ قوم پرستوں کے یا دهشت گردی کے نام  پہ لاتعداد نفوس نامعلوم مقام نامعلوم لوگوں کے پاس جمع ہیں.یہ نامعلوم ہی مدعی ہیں یہ نامعلوم ہی منصف.
اهل اقتدار طبقہ اس بات کو سمجهنے سے قاصر نظر آتا ہے کہ اس قوم کی بنیادی ضرورت مختلف بهیک کے پیکجز نهیں، آسان قرضے نهیں ، لیب ٹاپس نهیں -آپ ہماری ثقافتوں کو نهیں خدارا ہمیں بچائیں.کیونکہ ان قوانین کے بعد تو سیاسی کارکنان کے آثار تک نہ ملنے کے.خدا کیلیے کم از کم مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سلسلسے میں اپنا کردار ادا کریں.یہ مسلہ سیاسی نهیں انسانی ہے.آج محترم تصدق حسین جیلانی کا بهی امتحان ہے کہ کیا آج کی عدلیہ پاکستانی عوام کے ساته کهڑی ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے

.PPO-2014 to be tabled in National Assembly todayhttp://abbtakk.tv/eng/ppo-2014-to-be-tabled-in-national-assembly-today-270114

missing Mqm